معلم کا کردار
*معلم کا کردار*
آج کے دور کو میں دور شدید کہوں تو مبالغہ آرائی نہ ہوگی۔بیشتر افراد اپنی تکلیف یا دکھ درد سے پریشان نہیں ہیں بلکہ انہیں یہ غم لاحق ہے کہ فلاں فلاں شخص خوش حال کیوں ہے۔خود میں موجود خامیوں کا جائزہ لے کر خود احتسابی دور کی بات بلکہ اچھے بھلے انسان میں خامیاں ڈھونڈنا بتدریج مشغلہ کی شکل اختیار کیا جارہا ہے اور خصوصاًدرس و تدریس سے وابستہ یعنی *معلمین* پر دل کھول کر اس طرح تنقید کی جارہی ہے گویا کسی کسی بہترین شعر پر داد دی جارہی ہو۔
انسان خطاونسیاں کا پتلا ہے۔نفس پر مکمل قابو کسے ہے؟
کچھ غلطیاں معلمین سے انجانے میں ہو جاتی ہیں اور کچھ غلطیاں بعض معلمین قصداً کرتے ہیں بالخصوص اس مقدس پیشہ سے مکمل وفاداری نا کرنا۔ہم چنندہ معلمین کی غلطیوں کا حوالہ دے کر تمام معلمین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں اور یہ حرکت انتہائی ناپسندیدگی کے زمرے میں آتی ہے۔
اگر ہم ٥٠/٦٠/٧٠کی دہائیوں کے معلمین سے اس دور کے معلمین کا موازنہ کریں تو بلاشبہ ان دہائیوں کے اساتذہ کرام سے اس دور کے استاد صاحبان کا کوئی موازنہ نہیں۔کیا وجوہ ہیں؟
ان دہائیوں کے معلمین اپنےپیشہ کو مقدس فریضہ سمجھتے تھے۔نیت خالص اور مقاصد کے حصول کی حتی الامکان کوشش۔وضع قطع اور رہن سہن و انداز گفتگو سے ہی ظاہر ہو جاتا کہ استاد/استانی ہیں۔سماج میں مرتبہ بھی بلند ہوتا تھا کیوں کہ اس وقت معاشرہ بھی کافی مہذب تھا۔لوگ سادہ زندگی گزارتے تھے۔خواہشات بہت کم تھیں۔عیش و عشرت سے پرہیز کرتے تھے جتنی چادر اتنا ہی پیر پھیلاتے تھے یعنی محدود آمدنی میں گزربسر کی کوشش کرتے تھے۔ٹیوشن کی وبا عام نہیں تھی۔مادری زبان میں ہی تعلیم کا رواج تھا اور اپنے بچوں کو مادری زبان میں ہی تعلیم دلواتے تھے۔اس وقت گفتگو مہذبانہ ہوا کرتی تھی بڑے بھی بچوں سے اخلاقی سطح پر بات کیا کرتے تھے۔لفظ تو،تیرے،ابے وغیرہ شائد ہی کسی نے استعمال کیاہو۔فحش کلمات سے اجتناب برتا جاتا تھا اور گھروں میں ماحول دینی اور ایک بڑی سی تھال میں ایک ساتھ کھانا کھاتے تھے۔عشاء بعد سونا اور سونے سے پہلے پانچ کلمہ امی ابو کو سنانا وغیرہ۔مختصرا" عرض کروں خالص دینی ماحول تھا۔اسکول میں اساتذہ کرام ایمانداری سے اپنے فرائض انجام دیتے تھے اور گھر پر والدین اور سماج میں لوگ ایک دوسرے سے میل ملاپ سے رہتے تھے۔زندگی پر سکون بسر ہوتی تھی۔
*آہستہ آہستہ وقت بدلنے لگا۔پرائیویٹ اسکولیں کھلنے لگیں۔ان اسکولوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا۔لوگ اسٹینڈرڈ ہونے لگے اور اتنے اسٹینڈرڈ ہوگئے کہ اپنی مادری زبان کی شیرینی و لطافت کو فراموش کرنے لگے اور انگریزی زبان کی جانب رجحان بڑھنے لگا۔انگریزی زبان میں تعلیم کا رواج جنگل میں لگی آگ کی طرح تیزی سے بڑھنے لگا اور جنہیں اپنا نام انگریزی میں لکھنا نہیں آتا تھا وہ بھی اپنے بچوں کو انگریزی زبان میں تعلیم دلانے لگے اور اسے میں قسمت کی ستم ظریفی کہوں یا اساتذہ کرام کی اپنی مادری زبان سے غداری( معاف کرنا) اردو کے اساتذہ کرام کو اپنے بچوں کو انگریزی میڈیم میں داخل نہیں کرانا چاہئے تھا۔*عوامی سطح پر بہت مضر اثرات مرتب ہوئے ہیں کافی والدین کا اردو زبان سے اعتبار اٹھ گیا ہے کہ جب اساتذہ کرام اپنے بچوں کو انگریزی اسکول میں داخل کرا رہے ہیں تو ظاہرسی بات ہے اردو اسکولوں میں معیاری تعلیم نہیں دی جاتی*
آج ہم حالات کا شکوہ کرتے ہیں لیکن میرا یہ کہنا ہے کہ حالات نامساعد نہیں ہوئے ہیں۔معلمین کو اشد ضرورت ہے اپنے محاسبہ کی۔ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کہ *ہمارے اندر کیا کمیاں ہیں*جس دن معلمین اپنی کمیاں خان لیں گے ان شاء اللہ تدریسی امور میں بہتری آئے گی۔
*حکومت سے ملنے والی سہولیات*
اول جماعت سے ہشتم جماعت تک حکومت ہر طرح کی سہولیات مہیا کراتی ہے
*سال میں دو یونیفارم
ماہ مئ میں کتابیں
رین کوٹ چھتری جوتے
ڈرائنگ بک جیومیٹری بکس بیگ پنسل ربر پین اسکیچ پین اردو انگریزی ریاضی سائنس کی بیٹیاں جس میں تدریسی ماڈل لائیبریری کے لئے مادری زبان میں کتابیں پوشن آہار کے ضمن میں نمک سے لے کر گیس تک کا انتظام چاول دال نمک ہلدی تیل مصالحہ حکومت اپنے خرچ سے اسکول تک پہنچاتی ہے سبزی ترکاری اور دیگر خرچ کا بل حکمت اسکول سے طلب کرتی ہے اور پابندی سے ادا کرتی ہے
پورک آہار کے ضمن میں ہفتہ میں ایک بار کیلے کھجوریا کوئی مقوی غذا کا خرچ حکومت ادا کرتی ہے ہر سال بسکٹ کے کچھ پیکٹ ہر بچہ کو حکومت ادا کرتی ہے اسکول کی عمارت کے دیکھ بھال کے ضمن میں پندرہ ہزار یا زائد رقم یا بچوں کی تعداد کے لحاظ سے رقم دینا جو کسی اسکول کو لاکھ روپے تک حاصل ہوتی ہے نئ عمارت بنانے کا خرچ بھی حکومت برداشت کرتی ہے یقین مانئے چاول رکھنے کے ڈرم ( تقریباًً ٤:تا ٨) حکومت دیتی ہے کمپیوٹر میں تعلیمی سافٹ وئیر بھی حکومت کی جانب سے مہیا کرایا جاتا ہے اسکول کو ڈیجیٹل بنانے کا خرچ اور دہم جماعت کی اسکولوں کو سائنسی آلات فراہم کرنے کا خرچ بھی حکومت ادا کرتی ہے
تنخواہ بھی ہر ماہ باقاعدہ اساتذہ کو ملتی ہے*
حالات سازگار ہیں۔ہم کس بات کا رونا روئیں-
*معلمین کی ذمہ داریاں*
ضلع پریشد میں کثیر تعداد میں غریب و نادار بچوں کی اکثریت ہوتی ہے۔اس لئے بچوں کو اسکول میں داخل کرنے کی کوشش کریں۔
باقاعدہ بینر بنائیں اور اس بینر میں حکومت سے ملنے والی سہولیات کا ذکر کریں( خصوصی سہولیات) والدین سے رابطہ قائم کریں اور مارچ مہینہ میں ہی سروے کرکے بچوں کو داخل کرنے کی کوشش کریں۔آدھار کارڈ کو اپ ڈیٹ یا نیا آدھار کارڈ بنانے میں مدد کرے۔اسکول میں داخل ہونے والے بچوں کو آٹھویں تک روکنے کی کوشش کریں ڈراپ آؤٹ نا ہونے ڈیں۔پیرنٹس ٹیچرس ایسوسی ایشن بنائیں اور ہر ماہ مٹینگ لیں اور باقاعدہ ریکارڈر رکھیں۔والدین سے رابطہ میں رہیں غیر حاضر بچوں کے متعلق والدین سے رجوع کریں۔ذہین بچوں کی تعریف و توصیف کریں اور کمزور بچوں کے لئے الگ سے وقت دیں۔* واضح رہے کہ والدین سے مسلسل رابطہ میں رہنے سے بچوں کی حاضری برقرار رہے گی صرف ہر مہینہ مٹینگ لینے سے مقاصد میں صد فی صد کامیابی نہیں ملے گی*
*اسکول میں معلم کا انفرادی کردار*
سال کے پہلے دن بچوں کا استقبال مشفقانہ انداز سے کرے۔
گلاب کا پھول اور چاکلیٹ دیں ان سے بہت پیار سے باتیں کریں کہ چھٹیاں کیسی گزریں۔آپ نے گاؤں جاکر کیا کیا دیکھا اور کھیت و باغ ندی تالاب کنویں وغیرہ کے متعلق آب و ہوا اور گھر کے متعلق باتیں کریں۔دوران گفتگو واہ شاباش مجھے بھی آپ کے گاؤں آنا ہے وغیرہ۔بچوں کی دلجوئی آپ کو صرف پہلے دن ہی نہیں بلکہ یہ عمل مسلسل جاری رکھنا ہے۔
وقتاً فوقتاً اسلامی معلومات دینا ہے کلمہ اور کچھ سورہ اور نماز کا طریقہ بتائیں روزآنہ نماز و قرآن پڑھنے کی تلقین کریں۔اسلامی واقعات سنائیں اخلاقی کہانیاں پڑھنے دیں اور کسی جمعہ کو کلمہ سنیں نماز کا طریقہ سنیں۔کہانیاں سنیں۔بچے اپنے کلاس ٹیچر سے بہت محبت کرتے ہیں اور کلاس ٹیچر حسن سلوک کا مظاہرہ کریں گے تب بچے کی اخلاقی نشوونما ہوگی اور بچے مہذب و شائشتہ بنیں گے۔بچوں کی جسمانی صحت کے لئے ضروری ہے کہ انہیں کھیلنے کا موقع دیا جائے روزآنہ ایک پریڈ ان کو کھیلنے دیں۔روزانہ پری پاٹھ( پیش درس) میں تلاوت حمد نعت کے علاوہ ایک حدیث بتائیں۔اسلامی و تاریخی واقعہ اور آج کے دن کی اہمیت بتائیں۔راشتریہ گیت صحیح طریقہ سے پڑھائیں اور حب الوطنی کا جذبہ پیدا کرنے کی کوشش کریں۔
*موثر تدریس*
ضلع پریشد میں جماعت زیادہ اور معلمین کی تعداد کم ہوتی ہے لہذا معلم کو تمام مضامین میں دستزس لازمی ہے۔
ہمیں کیا پڑھانا ہےاور مقاصد کے حصول کے لئے قبل از وقت تیاری بہت ضروری ہے۔اگر استاد تیاری سے جائیں گے تب تدریس مؤثر ہوگی۔تعلیمی پیٹی کے استعمال کے ساتھ چارٹس کا بھی استعمال کریں بالخصوص جغرافیہ کو سرسری نہیں پڑھا سکتے علم ہندسہ کے لئے جیومیٹری بکس لازم ہے اسی طرح ہر مضمون کے لئے وسائل کا انتخاب اور اسے مؤثر استعمال کرنے کا فن بخوبی آنا چاہئیے۔طفل مرکوز تعلیمی طریقہ اختیار کریں بچوں کی جانب سے آنے والے سوالات کا بر وقت جواب دیں اور کافی خندہ پیشانی اور مشفقانہ انداز میں جواب دیں انہیں یہ نہ کہیں کہ کل بتاؤں گا یا بعد میں بتاؤں گا ( اسکول کی باتیں بچے گھر میں ضرور بتاتے ہیں آپ جواب دینے میں ٹال مٹول کریں گے تب منفی اثرات مرتب ہوں گے)
طریقہ تعلیم میں تبدیلیاں کرتے رہیں ایک ہی طریقہ تعلیم سے دوررس نتائج برآمد نہیں ہوتے۔بچوں سے اسباق پر مبنی سوالات کریں اور غلط جواب دینے پر پیار سے سمجھایا کریں۔ صحیح جوابات پر شاباش بہت خوب جیسے تعریفی الفاظ ادا کریں۔بچوں کی ستائش لازمی ہے۔وقتا" فوقتاً بچوں کی جانچ لیتے رہیں اور بچوں کو رٹنے کی عادت نہ ڈالیں بلکہ نکات کے جملے بنانا اور جوابات لکھنے کا طریقہ بتائیں۔اردو قواعد پر بہت زور دیں اور املا نویسی ضرور لیں۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ بچے اپنے مافی الضمیر کا اظہار نہیں کرپاتے اور الوداعی جلسہ یا ثقافتی پروگرام میں تذبذب کا شکار ہو جاتے ہیں۔اس لئے جماعت اول سے ہی چھوٹی چھوٹی کہانیاں کہنے کی عادت ڈالیں اور بڑی جماعتوں میں کسی مخصوص عنوان پر کچھ کہنے کی مشق کرائیں۔بچوں کی تحریری صلاحیت میں پختگی کے لئے نکات سےمضمون نویسی کی طرف توجہ دیں اور کچھ الفاظ دے کر کہانیاں لکھنے کی مشق کرائیں اور بچوں کی مدد بھی کرے۔تختہ سیاہ پر رنگین کھریا کا استعمال کرے۔جدید ٹکنا لوجی کا استعمال کرے اور کمپیوٹر و ماسٹر ٹی وی پر تعلیمی ویڈیو دکھائے اور اس کے متعلق سیر حاصل گفتگو کرے اور رہنمائی کرے۔واضح رہے معلم کا حسن سلوک انداز گفتگو بچوں کے دل میں رچ بچ جاتا ہے۔
Nice
ReplyDeleteThank you
DeleteVery informative ,
ReplyDeleteThank you
Delete